Kamil Emaan


 تمہارے دلہا بھائی کا بس چلے تو ہر وقت رعب ہی چلاتے رہیں مجھ پر یہ کرو، وہ کرو یہ نہ کرو ہونہہ ۔ سالہ مریم کے ہاتھ جو نوٹ بک پہ تیزی سے کچھ لکھنے میں مگن تھے بڑی بہن کے تلخ لہجے میں کی گئی شکایت یا پھر بھڑاس پہ تھم گئے۔ جبکہ بڑی بہن صاحبہ اپنی کہہ کر گنگناتی ہوئی نائٹ کریم سے پیروں سے مساج کرنے میں مگن ہوئیں۔ کمرے کے باہر سے گزرتی صفیہ بیگم کے کانوں میں واضح طور پر رمشا کے الفاظ پڑے تھے۔ 

جب ہی وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں۔ مریم تمہارا کام ہو گیا کیا جو گپیں لڑا رہی ہو اور رمشا تم ۔ رمشا کو قہر برسانی نگاہوں کی زد میں لیا۔ ذرا میرے ساتھ آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ کہہ کر وہ تیزی سے چلی گئیں جبکہ رمشا کا مساج کرتا ہاتھ رک گیا۔ مجھ سے کیا کام بھلا ابھی تو ڈیڑھ گھنٹا بیٹھ کر آرہی ہوں۔ بڑبڑاتے ہوئے سلیپرز میں پاؤں گھسائے اور انہیں ڈھونڈتی ہوئی باہر لان میں چلی آئی۔ صفیہ بیگم کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھیں اور سر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم لگ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر ماتھے پہ شکنیں دوبارہ سے لوٹ آئیں۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے برابر بٹھایا، ایسے کہ رمشا کی چیخ نکل کر رہ گئی۔ آہ امی! کیا ہو گیا آپ کو فورا سے آنکھیں ٹپ ٹپ برسنے کے لیے تیار ہو گئیں مگر صفیہ بیگم نے جھپٹ کر اس کا بازو دبوچ لیا۔ 

دیکھو رمشا ایک بات کان کھول کر سن لو اگریہاں آنا ہے تو اپنی زبان کو لگام دو ابھی ڈیڑھ گھنٹا تم میرے پاس سسرال کی چغلیاں کر کے گئی ہو اب مریم کا دماغ مت خراب کرو کہیں وہ بھی میری طرح، انہوں نے کہتے کہتے بات ادھوری چھوڑی پھر تیزی سے بات بدل ڈالی۔ خیر آئندہ ایسا ہوا تو سمجھو تمہارا اس گھر میں داخلہ بند ۔ رہنا اسی گھر میں جن کا حلال کھا پی کر ان کے پیٹھ پیچھے غیبت سے حرام کر رہی ہو۔ درشت لہجے میں کہہ کر ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اندر کی طرف بڑھنے لگیں کہ رمشا نے اپنے دکھتے بازو کو چھوڑ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔ امی بات تو سنیے ہوا کیا ہے ایسے کیوں کہہ رہی ہیں۔ آج سے پہلے تو میری باتوں پہ کچھ نہیں کہا آپ نے۔ آج ہی احساس ہوا ہے۔ افسوس، بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا ۔ صفیہ بیگم نے پلٹے بغیر دھیمی آواز میں کہا۔ جبکہ رمشا بے چین ہوگئی۔ ٹھیک ہے میں آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گی لیکن اس سے آگے تو بتایے کہ میری طرح کیا؟ رمشا کے اصرار پہ صفیہ بیگم کرسی پہ ڈھے سی گئیں ۔ انداز ہارا ہوا تھا آج ان کا دل بھر آیا، ہمراز ملتے ہی سارے پچھتاوے پھر سے جاگ اٹھے تھے۔ تمہارے ابو میرے منجھلے چچا کے بیٹے ہیں، ندیم چچا کے۔ جب ہمارا رشتہ ہوا تو پورے خاندان میں ان کی خوش مزاجی کے دور دور تک چرچے تھے۔ صفیہ بیگم بتاتے گویا اسی منظر میں کھوئی گئیں۔

ہائے صفیہ! تیری قسمت کتنی اچھی ہے نا، کتنے ہینڈ سم دلہا بھائی ملے ہیں نا ۔ خالہ زاد بینش نے اس کے ماتھے کی بندیا ٹھیک کرتے ہوئے کہا تو اس کی پلکیں فطری شرم سے جھک گئیں۔ رخساروں پہ لالی ابھر آئی تھی۔ کاش مجھے بھی اتنا خوش اخلاق نرم گفتار ہم سفر ملتا۔ میری قسمت میں وہ پان چباتا لال لال آنکھوں والا عامر ہی رہ گیا تھا ۔ ماموں زاد ہانیہ کے لہجے میں ، دل میں کہیں چھپا حسد عیاں ہو رہا تھا مگر صفیہ اپنی دھڑکتی دھڑکنوں کے شور میں سب سے بے نیاز اپنے خوبرو ہم سفر کامل کے خیالوں میں گم تھی اس لیے اس کا حسد زدہ لہجہ محسوس نہیں کر پائی۔ ویسے تو ہانیہ اس کے نکاح سے پہلے عامر کے ساتھ منگنی پر اترائی پھرتی تھی لیکن جب سے صفیہ کے لیے کامل کا رشتہ آیا تھا اسے عامر سے اللہ واسطے کا بیر ہو گیا تھا۔ عامر کی خوبیاں بھی خامیاں لگتی جو تھیں اور گنی چنی خامیوں میں سے سب سے بڑی خامی اس کا پان کھانا اسے بہت چھبنے لگا تھا- مگراسی ہانیہ کے خیالات صفیہ کے نکاح پہلے کچھ اور تھے۔ عامر ایسے پان کھاتے کسی فلم کے ہیرو لگتے ہیں اللہ ۔ ساتھ ہی ساتھ دوپٹے کا کونا شرم سے دانت تلے دبایا جاتا اورساری کزنز رشک و جلن کے مارے اسے تکتی رہ جاتی تھیں۔ سب اپنی اپنی جگہ صفیہ کی خوش قسمتی کے متعلق سوچوں میں گم تھیں کہ اچانک دھاڑ سے دروازہ کھلا۔ ساری خالہ زاد ماموں زاد شادی شدہ کزنز سیلاب کے ریلے کی طرح اندر ٹھس آئی تھیں ۔ صفیہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ کوئی بھائی بہن نہ ہونے کی وجہ سے سب اس سے اور وہ سب سے بہت پیار کرتی تھی۔ چلو بھی لڑکیوں اس سے پہلے بارات آئے تم لوگ نو دو گیارہ ہو جاؤ، ہمیں صفیہ سے تھوڑی پرسنل باتیں کرنی ہیں ۔ 

سب سے بڑی نرمین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں آنکھ مارتے ہوئے لڑکیوں کو کھسکنے کا اشارہ کیا جس پر وہ برے برے منہ بناتی ہوئی باہر نکل گئیں۔ ان سب کے جاتے ہی شزا نے دروازے کو لاک کیا۔ دروازہ لاک ہوتے ہی سب اس کے قریب گھیرا ڈال کر کھڑی ہو گئی تھیں ۔ اللہ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں آپ سب مجھے ۔ صفیہ نے پریشان ہو کر کہا آنکھوں میں نمی بھی کہیں سے نمودار ہونے لگی تھی ، اس کی یہ حالت دیکھ کر ان پانچوں نے اپنے سر ہاتھوں پہ گرا لیے۔ میری معصوم شہزادی اگر یہی انداز تم اپنے سرال لے کر گئی نا تو سمجھو اگلے دن تمہارا جنازہ ہی نکلے گا وہاں سے۔ نرمین کی بات پہ صفیہ کا رنگ لٹھے کی طرح سفید ہو گیا۔ اس کی روتی آواز پہ وہ پانچوں ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسنے لگیں۔ سچ جنازہ وہ کیوں نرمین آپی! نرمین کا مطلب تھوڑی ہوشیاری لاؤ اپنے چہرے پر اور یہ بات بات پے رونا تمہیں کمزور کر رہا ہے، مضبوط بنو۔ شزا کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

Comments